
نو مئ کے بعدکیا ھوا ُحیرت انگیز انکشا فات(عمران خان)
حبیب اکرم صاحب بتا رہے تھے کہ نو مئی کے بعد جب عمران خان کی پارٹی کو بظاہر کچل دیا گیا تھا اور تحریک انصاف کا مستقبل تاریک نظر آتا تھا تو ان دنوں زمان پارک میں عمران خان سے ملاقات ہوئی تو وہی سوال دہرایا کہ اب کیا ہو گا ۔ عمران خان بولے فی الحال تو جیل جانے کی تیاری کر رہا ہوں۔ پھر وہیں سے مذاکرات کا آغاز ہو گا۔
اس واقعے سے ایک بات بلکل واضح ہوتی ہے کہ عمران خان نو مئی کے بعد رہا ہوتے ہی ، پارٹی کے خلاف جاری جبر و فسطائیت کے دوران ہی جان چکے تھے کہ پارٹی کو بظاہر مکمل کچل دینے کے بعد جرنیل مجھے دوبارہ جیل میں ڈالیں گے اور یہی وہ وقت ہو گا جب جرنیلوں کے مطابق اُن کی پوزیشن مضبوط ہو گی اور عمران خان جیل کے خوف سے ان کی شرائط تسلیم کر لیں گے۔
جرنیلوں کا پلان بھی یہی تھا کہ عمران خان ایک ہفتے میں ہی گڑگڑانے لگے کہ مجھے باہر نکالو مگر عمران خان ایک مشن پہ ہے جہاں وہ جان کی قربانی سے بھی دریغ کرنے کو تیار نہیں چہ جائیکہ جیل کی سختیاں اسے توڑ سکیں۔ وہ ارادہ اور تیاری کر کے گیا اور وہاں بیٹھ گیا۔ جرنیلوں نے اسے تنگ کرنے کےلیے بڑا زور لگایا ۔ بارش میں پانی سیل میں آتا ،رات مچھروں میں گزرتی ، اگست کا مہینہ تھا سو گرمی بھی تھی ۔ عمران خان مگر تمام سختیوں میں ڈٹا رہا اور جرنیل تڑپتے رہے۔ انھوں نے براہ راست مذاکرات شروع کرنے کے بجائے عمران خان کے اعصاب توڑنے پہ انرجی ضائع کرنا ضروری سمجھی۔
جب عمران خان تھرڈ کلاس میں بھی نہ ٹوٹا اور اٹک جیل میں سیٹ ہو گیا تو جرنیل گھبرا گئے۔ تب عمران خان سے مذاکرات کے بجائے سختیوں کا اگلا راؤنڈ شروع ہوا اور انھیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا جہاں انھیں تھرڈ کلاس سے بھی بدتر حالات میں رکھا گیا۔ تب مزاکرات شروع کیے گئے ، آفرز بھی لائی گئیں اور ساتھ ساتھ سختیاں بھی بڑھائی گئیں مگر اب عمران خان مزید مضبوط ہو چکا تھا۔
اب حالات یوں ہے کہ جرنیلوں نے تمام پتے استعمال کر لیے۔ اب ان کے پاس کچھ بچا نہیں ہے۔ ملٹری کورٹس کی سزائیں بھی ہو گئیں ، عمران خان خود بھی ڈیڑھ سال گزار چکا ، بیگم بھی جیل بھگت چکی ، بہنیں بھی جیل سے ہو آئیں ، بھانجا بھی تشدد و جبر سہہ رہا ، پنجاب کی قیادت بھی جیلوں میں ڈیڑھ سال گزار چکی ، کارکنان سے جیلیں بھری ہیں ، مینڈیٹ بھی چھین لیا ، آئینی ترامیم بھی کر لیں ۔۔۔۔۔ مگر نہ تحریک انصاف کمزور ہوئی نہ اسٹیبلشمنٹ کی عوام میں حثیت بحال ہوئی ۔ گھبرا کر نہتے مظاہرین پہ گولیاں داغ دیں مگر نتائج الٹے ہی نکلے اور ردعمل ملکی سطح سے نکل کر عالمی پریشر کا باعث بن گیا
عمران خان دسمبر کی ٹھٹھرتی راتیں بھی گزا چکا اور جون کے تپتے دن بھی ۔۔۔۔ اب اسے جیل سے باہر نکالنے یا اسیران کو رہا کرنے کی آفر کے نام پہ کچھ نہیں منوایا جا سکتا ۔ اب مذاکرات میں اسٹبلشمنٹ کے پاس دینے کو کچھ نہیں مگر کھونے کو بہت کچھ ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس کو تلوار کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے مگر وہ خوفزدہ ہونے کے بجائے کہتا ہے جلدی سے سزا سناؤ ۔ وقت بہت کم رہ چکا ہے اور جرنیلوں کی گھبراہٹ بڑھ رہی ہے۔ گھبراہٹ اس قدر ہے کہ اتوار کو بھی جیل کے دروازے کھولے گئے اور فیصلہ ہے کہ تیسری بار ملتوی ہوا۔
آج اسٹبلشمنٹ کی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ عمران خان جیل سے آرمی چیف کا نام لیکر چڑھائی کر دیتا ہے مگر نہ مذاکرات ملتوی ہوتے ہیں نہ آفرز میں کمی آتی ہے۔ اسٹبلشمنٹ اپنے نمائندوں کو کبھی اڈیالہ بھیجتی ہے تو کبھی پشاور میں براہ راست نشستیں ہوتی ہیں ۔ کل خواجہ آصف تو اسمبلی میں باقاعدہ رو پڑا کہ “اگر براہ راست بات چیت ہی کرنی ہے تو حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ڈرامہ بند ہونا چاہیے ” مگر حکومتی کمیٹی کے سامنے تو خانہ پوری ہو رہی ہے کیونکہ اس کمیٹی کی اوقات تو عمران خان سے ملاقات تک کروانے کی نہیں ہے۔
غالباً سولہ تاریخ کو امریکی کانگریس میں 26 نومبر کے سانحہِ کے حوالے سے بریفننگ ہے۔ برطانیہ میں بھی ہاؤس ہیئرنگ قریب ہے۔ آٹھ فروری کی الیکشن چوری پہ بھی یورپی یونین میں طوفان تیار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی آمد آمد ہے اور بیس جنوری سے ٹرمپ صدارتی آفس میں ہو گا۔ عالمی سرپرستی مکمل چھن چکی ہے۔ اندورنی حالات بھی اسٹبلشمنٹ کے مکمل خلاف ہیں ۔ ان حالات میں جلد سے جلد کوئی ڈیل کریک کرنے کی کوشش میں اسٹبلشمنٹ ماری ماری پھر رہی ہے۔ آرمی چیف کا پشاور دوہ اور سیاسی راہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی فوٹو سامنے لانا عوام میں اپنی حثیت کی بحالی کی کوشش ہی ہے ۔
یہ سب اشارے بتا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کس قدر خوفزدہ اور بوکھلاہٹ میں مبتلا ہے ۔ دوسری جانب اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی مطمئن اور پُرسکون ہے اور جرنیلوں کے اعصاب پہ سوار ہے ۔ جرنیلوں نے اپنی انا کی تسکین میں قیمتی وقت گنوا دیا جبکہ عمران خان نے سختیاں جھیل کر مشکل وقت گزار دیا۔ اب حالات پہ عمران خان کا کنٹرول ہے اور جرنیلوں کی حالت پتلی ہے ۔
تحریر محمد ناصر صدیقی