2025متحدہ عرب امارات(UAE) ویزا پالیسی

 

UAE Visa Policy in 2025

1. پولیس تصدیق لازمی

  • ضرورت:
    یو اے ای جانے والے تمام پاکستانی مسافروں کے لیے پولیس کلیئرنس رپورٹ کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے۔
    اس اقدام کا مقصد سیکیورٹی میں اضافہ اور یو اے ای کے قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔
  • عملدرآمد:
    ٹریول ایجنٹس کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس شرط پر سختی سے عمل درآمد کریں اور بغیر کلیئرنس کے کسی درخواست کو آگے نہ بڑھائیں۔

2. ملازمت کے ویزوں کا رجحان

  • ہنر مند افراد کے لیے:
    ہنر مند پاکستانی کارکنوں کے لیے ویزوں پر کوئی پابندی نہیں ہے، اور یو اے ای نے اپنی افرادی قوت کا کوٹہ 1.6 ملین سے بڑھا کر 1.8 ملین کر دیا ہے۔
    2024 میں تقریباً 65,000 پاکستانیوں کو یو اے ای میں ملازمتیں ملیں۔
  • غیر ہنر مند کارکنوں کے لیے:
    غیر ہنر مند افراد کے لیے ویزوں میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ پاکستانی حکام زور دے رہے ہیں کہ افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تربیت دی جائے تاکہ مزید مواقع حاصل کیے جا سکیں۔

3. ویزا درخواست کی سفارشات

  • درخواست دینے کا وقت:
    پاکستانی مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفر کی متوقع تاریخ سے کم از کم 1-2 ہفتے پہلے دبئی ویزا کے لیے درخواست دیں۔
  • ضروری دستاویزات:
    درخواست گزاروں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تمام دستاویزات مکمل اور درست ہوں تاکہ ویزا مسترد ہونے سے بچا جا سکے۔

4. ویزا پابندیاں اور منظوری

  • موجودہ صورتحال:
    حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اور درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں۔
    تاہم، مسافروں کو محتاط رہنے اور تمام ضروریات پوری کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

5. عمومی داخلہ تقاضے

  • پاسپورٹ کی میعاد:
    مسافروں کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ ہونا ضروری ہے۔
  • ویزا کی اقسام:
    مختلف ویزا اختیارات دستیاب ہیں، جیسے کہ سیاحتی ویزا، ٹرانزٹ ویزا، اور ملازمت کے ویزے، جن کے لیے مخصوص شرائط اور مدت ہوتی ہے۔

سفارشات

  • اپ ڈیٹ رہیں:
    یو اے ای کی سرکاری ویب سائٹس یا مجاز ویزا پروسیسنگ مراکز سے رابطہ کریں تاکہ تازہ ترین معلومات حاصل کی جا سکیں۔
  • دستاویزات تیار کریں:
    پولیس کلیئرنس رپورٹ اور درست پاسپورٹ سمیت تمام ضروری دستاویزات پہلے سے تیار کریں۔
  • ہنر سیکھیں:
    ملازمت کے مواقع کے لیے ایسے ہنر حاصل کریں جو عالمی معیار سے ہم آہنگ ہوں۔

 

 

More From Author

latest updates about Imran Khanعمران خان، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Language

Related news