
کیا ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن دبئی میں سرمایہ کاری خلاف قانون ہے اور نیب اسے ’منی لانڈرنگ‘ کیوں قرار دے رہا ہے؟
دبئی میں ملک ریاض کا تعمیراتی منصوبہ کیا ہے؟
کیا ملک ریاض کو متحدہ عرب امارات سے پاکستان لانا ممکن ہے؟
بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کا شمار پاکستان کی ان بااثر کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں دونوں میں اہم لوگوں سے رابطے رکھتے ہیں۔
حکومتیں بدلتی رہیں لیکن ملک ریاض کا بحریہ ٹاؤن پھلتا پھولتا رہتا تھا لیکن گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کی اس بااثر کاروباری شخصیت کے قسمت کے ستارے گردش میں ہیں۔
منگل کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ملک ریاض ’عدالتی مفرور‘ ہیں اور ساتھ یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کو ’منی لانڈرنگ‘ تصور کیا جائے گا۔
ملک ریاض اس وقت دبئی میں مقیم ہیں اور نیب کا کہنا ہے کہ ’حکومتِ پاکستان قانونی چینلز کے ذریعے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات سے رابطہ کر رہی ہے۔‘
ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے نام سے رہائشی منصوبہ بالکل بھی خلاف قانون نہیں کیونکہ دبئی دنیا کے اندر سرمایہ کاروں کے لیے سب سے محفوظ اور ہر طرح کی رکاوٹوں سے پاک ماحول فراہم کرتا ہے اور دنیا کے کسی بھی ملک کا شہری دبئی کے قانون کے مطابق وہاں کی ریکوائرمنٹس پوری کر کے بشمول پراپرٹی کے کوئی بھی کاروبار کر سکتا ہے اور پاکستان کے شہریوں کو بھی یہ سہولت حاصل ہے
نیب نے جو پریس ریلیز جاری کی کہ ملک ریاض کی دبئی کے منصوبے میں سرمایہ کاری منی لانڈرنگ کے زمرے میں اتی ہے اس کے پس پردہ بہت سے سیاسی اور کاروباری محرکات کار فرما ہیں . بنیادی طور پر چونکہ ملک ریاض پاکستان کا سب سے بڑا پراپرٹی ڈیویلپر ہے اور پاکستان کے مختلف شہروں میں بحریہ ٹاؤن کے نام سے بڑے بڑے پراجیکٹ ملک ریاض کے کریڈٹ پر ہیں اور ملک ریاض نے خود بھی منافہ کمایا اور اوورسیز پاکستانیوں اور پاکستان کے اندر پراپرٹی کے اندر سرمایہ کاری کرنے والوں نے بھی اس سے بے شمار فوائد حاصل کیے اب ملک ریاض کا دبئی میں پروجیکٹ شروع کرنے سے اس بات کا بڑی حد تک اندیشہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اور پاکستان کے اندر موجود سرمایہ کار دبئی میں ملک ریاض کے پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کریں گے جس سے پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ کے بیٹھ جانے کا خدشہ ہے اس وجہ سے حکومت پاکستان لوگوں کو روکنے کے لیے نیب کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے .
دبئی میں ملک ریاض کا تعمیراتی منصوبہ دبئی کے نئے ایئرپورٹ المختوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دبئی ساؤتھ میں واقع ہے اور اس تعمیراتی منصوبے میں ولاز ٹاؤن ہاؤسز اپارٹمنٹس کاروباری مراکز ہسپتال تعلیمی ادارے بچوں کے لیے پارک اور گرین ایریاز اور ڈانسنگ فاؤنٹین پر مشتمل ہے ابھی یہ ابتدائی مراحل میں ہے اور جلد ہی تعمیراتی سرگرمیوں کا اغاز ہو جائے